15 اپریل 2013 - 19:30
روہنگیائی مسلمانوں کی صورتحال

اسلامی تعاون تنظیم نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے اسلامی ممالک کے وفد کو دورے کی اجازت دی جائے۔

ابنا: اسلامی تعاون تنظیم نے کل اتوار کو میانمار کے مسلمانوں کے موضوع پر منعقد ہونیوالے خصوصی اجلاس کے اختتام پر میانمار کے حکام سے مطالبہ کیا کہ اسلامی ممالک کے وزارتی وفد کو میانمار کے دورے کی اجازت دی جائے ۔ اس اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے میانمار کے مسلمانوں پر جاری تشدد کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے اسے، بحران کے خاتمے کےلئے میانمار کی حکومت کی منفی کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا۔اس سے قبل مارچ میں بھی اکمل الدین احسان اوغلو نے میانمار کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ مسلمانوں پر شدت پسند بڈھسٹوں کے حملوں کی روک تھام کرے ۔ اسلامی تعاون تنظیم گذشتہ ایک سال سے میانمار میں وفد بھیجنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ابھی تک دورے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔مسلمان جہاں بھی رہتے ہیں اپنے مذہب اور کلچر کو عزیز رکھتے ہیں، جب کہ دیگر قومیں دوسری قوموں میں ضم ہوجاتی ہیں، اس لیے مسلم قوم کو حریف کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جب کہ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کے مذہب سے تعارض نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کے مذہب کو برا بھلا کہتے ہیں، کیوں کہ اسلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی کے مذہب کو برا مت کہو۔ جب کہ مسلمانوں کو آئے دن خلفشار میں مبتلا رکھنے کے لیے ان کے مذہب، ان کے پیغمبر کی شان میں گستاخی، ان کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی، ان کے مذہبی مقامات منہدم یا نذرِ آتش کیے جاتے ہیں۔ مغرب جسے انسانی حقوق، معاشرتی رواداری اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بہت ناز ہے، وہاں اکثرو بیشتر مسلمانوں کے ساتھ دل آزار رویہ، پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات کہنے کے واقعات پیش آتے ہیں اور ان مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کا حوالہ دے کر لیپاپوتی کی جاتی ہے۔ جبکہ اگر کوئی مسلمان ہولوکاسٹ کے خلاف کچھ بولتا ہے تو فوراً کارروائی شروع کردی جاتی ہے اور پھر آزادی اظہار کا حق کہیں کھو جاتا ہے۔ مشرقی تیمور یا جنوبی سوڈان میں سرکشی کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو مظالم اور قتل عام کہہ کر فوراً ملکوں کے دو ٹکڑے کردیئے جاتے ہیں، لیکن جب معاملہ مسلمان کا ہو، یا فلسطین یا برما میں مسلمانوں کے قتل عام کا تو تمام عالمی برادری کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور اقوام متحدہ کا کردار صرف بیان جاری کرنے تک محدود رہ جاتا ہے۔ برما  یا میانمارمیں ایک بار پھر مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے، اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورا عالم خواب خرگوش میں مبتلا ہے۔حیرانی کی بات ہے کہ پوری دنیا میں جمہوریت کی علَم بردار ہونے کا ڈھول پیٹنے والی نوبل امن انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی نے اس قتل عام کی کبھی بھی مذمت نہیں کی اور نہ ہی بدھسٹوں سے اسے روکنے کی اپیل کی۔ کسی دوسری قوم کے ساتھ اس طرح کی درندگی کا مظاہرہ کیا گیا ہوتا تو حمایت کے جرم میں نوبل انعام چھین لیا جاتا۔ برمی مسلمانوں کو صرف قتلِ عام ہی کا سامنا نہیں ہے بلکہ انہیں سماجی مقاطعہ کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے بازاروں سے اشیاء خریدنا ناممکن ہوگیا ہے۔ ایک لاکھ دس ہزار کے قریب افراد ان فسادات کی وجہ سے بے گھر ہوکر امدادی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔بدھ مت کے دہشت گرد برمی فوج کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہزاروں مسلمانوں کو بڈھسٹ اور بودھ بھکشوئوں نے مل کر قتل کیا اور لاکھوں کو ملک بدر ہونے پر مجبور کردیاجو لوگ گھربار نہیں چھوڑتے انہیں قتل اور عورتوں کی آبروریزی جیسی وحشت ناک وارداتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں اور ضعیفوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ برما میں گزشتہ سال جون کے مہینے میں بیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ دس ہزار افراد لاپتا تھے۔ پانچ ہزار مسلم خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے سیکڑوں دیہات تاخت و تاراج کردیئے گئے، درجنوں مساجد شہید کی جاچکی ہیں میانمار میں گزشتہ کئی برسوں سے مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے بلکہ وہاں بے دریغ مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں مسلمانوں کے کئی علاقوں میں مساجد اور مکانات کو بدھسٹ راہبوں نے پولیس اور فوج کی سرپرستی میں جلایا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا اس واقعہ پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ میانمار میں بدھسٹوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا ہے اس کی انسان تو کیا کسی جانور سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔مسلمانوں کی امداد کے لیے او آئی سی کا ایک دفتر کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا جس کی اجازت برمی حکومت نے نہیں دی۔ برما کے صدر تھین سین نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے اپنے ملک میں دفتر کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ برمی حکومت نہ صرف عالم اسلام کی اپیل کو ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہے بلکہ عالمی برادری کی کسی بھی درخواست کو خاطر میں نہیں لا رہی۔ایسی صورت حال میں اسلامی ممالک کے وزارتی وفد کو میانمار کے دورے کی اجازت ملنا ایک ناممکن امر نظر آرہا ہے البتہ یہاں پر یہ بات بھی خصوصی طورپر قابل زکر ہے کہ وہ طاقتیں جو بشار اسد کی حکومت کو گرانے اور بذعم خویش شامی عوام کی نجات کے لئے شام میں سرگرم عمل ہیں کیا انہیں میانمار کے مسلمانوں کی حالت زار نظر نہیں آتی.

.....

/169